روزے کی حالت میں قے ہونے سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ اگر قے خود بخود اور بغیر اختیار کے ہوجائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، چاہے قے کم ہو یا زیادہ، بشرطیکہ وہ دوبارہ حلق میں واپس نہ جائے۔
اس صورت میں روزہ درست رہتا ہے اور اس کی قضا لازم نہیں ہوتی۔
فقہی کتب میں وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قے کرے اور وہ منہ بھر ہو تو تمام علماء کے نزدیک روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی قضا ضروری ہوتی ہے۔ تاہم اگر قصداً قے کی جائے لیکن مقدار منہ بھر سے کم ہو تو مستند قول کے مطابق روزہ برقرار رہتا ہے۔
مزید یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر قے میں کھانا، خون یا صفراء شامل ہو تو یہی احکام لاگو ہوں گے، جبکہ صرف بلغم آنے کی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اس حوالے سے فقہاء نے واضح اصول بیان کیے ہیں تاکہ روزے دار کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
احادیث مبارکہ میں بھی اس مسئلے کی وضاحت موجود ہے، جس کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو بلا اختیار قے آجائے اس پر قضا لازم نہیں، جبکہ جو جان بوجھ کر قے کرے اسے روزے کی قضا ادا کرنا ہوگی۔
