ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے کے تناظر میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے ردعمل کو پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی واضح تائید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے محرکات اور ان کے پس پردہ عوامل اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان افغان سرزمین پر دہشت گردوں کو حاصل مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ افغان عوام کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ یا دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بارہا اس امر کی نشاندہی کرتا آیا ہے کہ سرحد پار موجود عناصر کو حاصل آزادی نہ صرف علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے خطے میں عدم استحکام کو بھی تقویت ملتی ہے۔
علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ روابط خطے میں طاقت کے توازن اور امن کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اس وقت سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں، جہاں وہ جدہ میں فلسطین، غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی اقدامات پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار 26 سے 28 فروری تک اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، اس اہم اجلاس میں قابض اسرائیلی حکام کے اس غیر قانونی فیصلے پر غور کیا جائے گا، جس کے تحت یہودی بستیوں میں توسیع اور مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اس فورم پر پاکستان کا دوٹوک اور اصولی مؤقف پیش کریں گے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کریں گے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان خطے میں امن، خودمختاری کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے اور عالمی سطح پر ہر ایسے اقدام کی مخالفت کرے گا جو انصاف، امن اور انسانی حقوق کے منافی ہو۔
