مقبوضہ مغربی کنارے میں شدت پسند یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی آبادی اور مذہبی مقامات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق مغربی کنارے کے شہر نابلس میں مسلح یہودی آبادکاروں نے مسجد ابو بکر صدیق پر حملہ کر کے اسے نذر آتش کر دیا۔
علاوہ ازیں فلسطینی میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیوز میں مسجد کے داخلی دروازے کو جھلسا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دیواروں پر عبرانی زبان میں ’نتقام‘ اور ’پرائس ٹیگ‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے درج تھے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے معان نیوز ایجنسی کے مطابق آگ مسجد کے دروازے پر لگائی گئی جس سے بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا، تاہم مقامی افراد نے بروقت کارروائی کر کے آگ پر قابو پا لیا۔
رپورٹس کے مطابق ایک اور گروہ نے فلسطینی آبادی پر دھاوا بولتے ہوئے متعدد گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ جلتے ہوئے گھروں میں بچے بھی موجود تھے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق کم از کم چار مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں ایک رہائشی خیمہ اور ایک گھر کا داخلی راستہ شامل تھا۔
فلسطینی ہلال احمر کے مطابق دھویں سے متاثر ہونے والے 4 افراد کو موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ سیکورٹی کیمروں کی فوٹیج میں ایک درجن سے زائد نقاب پوش افراد کو گاڑیوں کو آگ لگاتے اور لاٹھیاں اٹھائے دیکھا گیا۔ ایک ویڈیو میں ایک فلسطینی شہری کو چیختے ہوئے سنا گیا کہ ’بچوں کو بچاؤ، گھر کے اندر بچے ہیں‘‘۔
ان واقعات کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف نے حملے کو نسل پرستانہ اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی عکاسی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں مزید بڑھ گئےہیں، جب ہندو اتنہا پسند بھارتی وزیراعظم اسرائیل کے دورے پر ہیں۔
