اسلام آباد:وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے امن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور بلااشتعال فائرنگ و حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جس دن حملہ کیا گیا، اُس دن کو حملہ آور پچھتائیں گے اور دنیا دیکھے گی کہ پاکستان اپنے دفاع میں کس حد تک جا سکتا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ افغان عبوری حکومت اُن دہشت گردوں کے دکھ میں شریک نظر آتی ہے جن پر چند روز قبل کارروائی کی گئی،پاکستان میں دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور امن دشمن عناصر کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رہیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے نوجوانوں کے گلے کاٹے جائیں، مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے ہوں، اسکول بسز کو نشانہ بنایا جائے، یہ سب ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان ان واقعات پر خاموش نہیں بیٹھے گا، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جو بھی آپشن درکار ہوا، اسے استعمال کیا جائے گا اور ریاست اپنی رٹ ہر صورت قائم کرے گی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں، قوم کو متحد ہو کر ریاستی اداروں کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ آپریشن “غضب للحق” کے تحت جوابی کارروائیوں میں اب تک ایک سو تینتیس افغان خارجی جہنم واصل ہو چکے ہیں جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پاک فوج کے مطابق ستائیس پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ سات افغان پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ مؤثر کارروائی کے دوران پچاس سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق کارروائیاں قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہیں اور پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ اور عوام کے امن کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھاتا رہے گا۔
