اسلام آباد: رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ (جولائی تا فروری) میں محصولات کی وصولی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 450 ارب روپے کے نمایاں شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے فروری تک کے عرصے میں حاصل شدہ ٹیکس ہدف سے خاصی کم رہے جس کے باعث محصولات کے سالانہ تخمینے پر نظرثانی کا امکان بڑھ گیا ہے اور آئندہ ہفتے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے اہم بات چیت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مدت میں تقریباً 8.1 کھرب روپے اکٹھے کیے گئے جو نظرثانی شدہ ہدف سے 450 ارب روپے کم ہیں، جبکہ اصل مقررہ ہدف کے مقابلے میں یہ فرق 670 ارب روپے تک جا پہنچتا ہے۔
ابتدا میں سالانہ ہدف 14.13 کھرب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسے 216 ارب روپے کم کیا گیا۔ موجودہ صورت حال کے پیش نظر اب مزید کمی کی تجویز زیر غور ہے تاکہ مالیاتی دباؤ کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
حکومت نے آمدنی میں کمی کو متوازن کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ اور ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کٹوتی جیسے اقدامات کیے ہیں، جس کا مقصد یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ بنیادی بجٹ سرپلس کا ہدف برقرار رکھا جا سکے، لیکن معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدامات وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں مگر پائیدار مالی استحکام کی ضمانت نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپر ٹیکس کی مد میں 125 ارب روپے کی وصولی نے مجموعی اعداد و شمار کو سہارا دیا، ورنہ محصولات 8 کھرب روپے سے بھی کم رہ سکتے تھے، تاہم اس سلسلے میں عدالت کے حتمی فیصلے کے مالی اثرات ابتدائی اندازوں سے کم ہو سکتے ہیں۔
انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی کے اہداف میں بھی مختلف سطح پر کمی بیشی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
واضح رہے کہ کاروباری حلقوں نے ٹیکس چوری کرنے والے شعبوں کو حاصل مسابقتی برتری پر تحفظات ظاہر کیے ہیں جبکہ آئی ایم ایف حکام نے فوری بنیادوں پر ٹیکس بیس بڑھانے میں عملی مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔
