ڈھاکا: بنگلا دیش میں 5.4 شدت کے زلزلے نے مختلف علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں، دفاتر اور تجارتی مراکز سے باہر نکل آئے اور کئی مقامات پر فضا تلبیہ و تکبیر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ شہریوں میں خوف و ہراس کی کیفیت دیکھنے میں آئی، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
بنگلا دیش کے محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز زلزلہ جس وقت ریکارڈ کیا گیا، اس کی شدت 5.4 تھی جو درمیانی نوعیت کی سمجھی جاتی ہے، مگر اس کے جھٹکے خاصے واضح محسوس کیے گئے۔
اسسٹنٹ میٹرولوجسٹ فرزانہ سلطانہ نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز دارالحکومت ڈھاکا سے لگ بھگ 188 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ضلع ستکھیرہ میں تھا، جو ساحلی پٹی کے قریب اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔
جامعہ ڈھاکا کے شعبہ ارضیات کے سابق سربراہ پروفیسر ہمایوں اختر نے وضاحت کی کہ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر سے کم تھی، اسی لیے اس کے اثرات زیادہ شدت سے محسوس کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ کم گہرائی والے زلزلے عموماً سطح زمین پر زیادہ جھٹکے پیدا کرتے ہیں۔ تقریباً ایک دہائی قبل بھی ستکھیرہ کے علاقے میں اسی نوعیت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جو خطے کی ارضیاتی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔
علاوہ ازیں غازی پر، جیشور، چٹوگرام، شاریاتپور اور کھلنا سمیت متعدد علاقوں میں لرزش محسوس کی گئی، جہاں احتیاطی طور پر ایمبولینس اور ریسکیو ٹیموں کو متحرک کیا گیا جب کہ حساس عمارتوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کسی ایک فالٹ لائن تک محدود نہیں ہوتے بلکہ زمین کے اندر مختلف جغرافیائی دباؤ اور حرکات بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
