جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملہ کھلی دہشت گردی کے مترادف ہے جس سے پورا خطہ جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے خطے کے امن اور استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے ایک بار پھر مذاکرات کو محض دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد “بورڈ آف پیس” درحقیقت جنگی پالیسیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہے، جس کے لیے پورے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکی سرپرستی میں متعدد مسلم ممالک کو نشانہ بنایا گیا جس سے وہاں انتشار اور تباہی پھیلی۔ انہوں نے مسلم حکمرانوں کو خبردار کیا کہ وہ حالات کی سنگینی کو سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں کیونکہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قیادت کو بھی محتاط رہنا چاہیے اور قومی خودمختاری اور سلامتی کو ہر صورت مقدم رکھنا ہوگا۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
