نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پرکیے گئے مشترکہ فوجی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے اس حملے کو مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے مشترکہ فوجی حملے ایران کی قومی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ایسے وقت میں جب یہ خطہ پہلے ہی سے عدم استحکام اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہے، یہ فوجی کارروائی کشیدگی میں مزید اضافہ اور عام شہریوں کی مشکلات کا سبب بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام یا سلامتی سے متعلق تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے نہ کہ میزائلوں اور جنگی جہازوں کے ذریعے۔ جارحیت کا یہ راستہ عالمی قانون کو کمزور کرتا ہے اور امن اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ خطے میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیاں مغربی ایشیا کو غیر مستحکم کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا ہے جس سے ایک بڑی جنگ بھڑکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اس جنگ کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
