English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خامنہ ای کی شہادت کے بعد صورتحال نازک، پاکستان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوشاں

القمر

اسلام آباد:نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نہایت نازک ہے اور پاکستان اسے قریب سے مانیٹر کر رہا ہے، پاکستان کی تمام سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرانے اور امن کے قیام پر مرکوز ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مختلف ممالک کے سفرا کو دی گئی بریفنگ میں کہا کہ پاکستان علاقائی اور دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، افغانستان کی صورتحال پر بھی شراکت دار ممالک کو اعتماد میں لینا ضروری تھا کیونکہ خطے کے حالات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تمام ریاستیں ایک دوسرے کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرنے کی پابند ہیں اور عالمی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہے، مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ تمام فریقین بات چیت کو ترجیح دیں۔

انہوں نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ہیں، متحدہ عرب امارات میں ایک حملے کے دوران ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا، جس پر حکومت کو گہرا دکھ ہے۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ خصوصاً غزہ میں امن کے قیام کے لیے موثر کردار ادا کیا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے پر زور دیا،پاکستان نے غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں بھی شرکت کی۔

افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن ہمسائیگی کا خواہاں ہے اور گزشتہ سال افغانستان کے تین دورے کیے گئے جن میں معیشت، تجارت اور علاقائی روابط پر بات چیت ہوئی۔ افغان طلبا کے لیے چار ہزار پانچ سو وظائف کی پیشکش کی گئی، پاکستان کی سرزمین کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال پر تشویش برقرار ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس افغان سرزمین سے دہشت گردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ قطر اور استنبول مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا، آپریشن غضب للحق کے تحت کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جوابی کارروائیوں میں شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام اقدامات مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر انتہائی احتیاط سے کیے گئے، پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے