اسلام آباد:امریکا نے پاکستان میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے غیر ہنگامی سفارتی عملے کو واپس بلانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
امریکی سفارتخانے کے اعلامیے کے مطابق لاہور اور کراچی میں قائم امریکی قونصل خانوں کے غیر ضروری عملے کو بھی ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے، اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی موجودہ سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔
امریکی حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کے ممکنہ خطرات موجود ہیں، جس کے باعث یہ احتیاطی اقدام اٹھایا گیا ہے، صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی ادارے اس صورتحال پر مکمل نگرانی رکھ رہے ہیں اور کسی بھی غیر معمولی واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ دیکھنے کو ملا۔ اس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج ہوا اور امریکی قونصلیٹ کے باہر پُرامن احتجاج کرنے والوں پر امریکی میرین نے براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دس افراد شہید اور پینتیس زخمی ہوئے تھے۔
