پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس دریافت کو نئے سال کی اب تک کی سب سے بڑی توانائی دریافت قرار دیا جا رہا ہے جس سے ملک کے توانائی کے شعبے کو تقویت ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے اس دریافت کے حوالے سے باضابطہ اطلاع پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیج دی ہے۔ کمپنی کے مطابق ابتدائی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ذخائر ملک کے توانائی وسائل میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔
کمپنی کے جاری کردہ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ کوہاٹ کے علاقے میں دریافت ہونے والے یہ ذخائر تیل اور گیس دونوں پر مشتمل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی دریافتیں ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق یہ نئے سال کے دوران دریافت ہونے والا سب سے بڑا ذخیرہ ہے جس سے ملکی توانائی کے شعبے میں نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ کمپنی نے اس دریافت کو اپنی تلاش اور کھدائی کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طویل عرصے سے تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس کے باعث ملکی معیشت پر بھاری بوجھ پڑتا ہے۔ ایسی نئی دریافتیں درآمدی انحصار کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ان ذخائر کی تجارتی بنیادوں پر پیداوار شروع ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف توانائی کے شعبے کو فائدہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے نئے ذخائر کی دریافت ملکی صنعتوں کے لیے بھی مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ توانائی کی مقامی دستیابی صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اس قسم کی کامیابیاں پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ ملک کو بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اور درآمدی بل کے دباؤ کا مسلسل سامنا ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر حکومت اور توانائی کمپنیاں اس دریافت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ ملک کے توانائی کے بحران کو کم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
