English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جنگی کشیدگی کے باعث قطر سے ایل این جی کی فراہمی متاثر

القمر

اسلام آباد:خطے میں جاری جنگی کشیدگی کے باعث پاکستان کو قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق جنگی حالات کے خاتمے تک ایل این جی کی سپلائی میں تعطل رہ سکتا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر گیس نے پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث ایل این جی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، مارچ کے مہینے میں پاکستان کو قطر سے مجموعی طور پر آٹھ ایل این جی کارگو موصول ہونا تھے تاہم اب تک صرف دو کارگو ہی پاکستان پہنچ سکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق باقی چھ کارگو سات، گیارہ، بارہ، سولہ، بیس اور اکیس مارچ کو پاکستان پہنچنے تھے لیکن موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث ان کی آمد غیر یقینی ہو گئی ہے، اگر سپلائی میں تاخیر برقرار رہی تو ملک میں ایل این جی کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ سکتی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق موجودہ ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے بیس سے اکیس مارچ تک گیس کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث صنعتی شعبے سمیت دیگر سیکٹرز کو ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایل این جی قطر سے ہی آئے گی تاہم موجودہ حالات میں متبادل فیول کے کچھ آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، برآمدات اور درآمدات کی ذمہ داری شپنگ لائنز کی ہوتی ہے اور انہیں اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔

وفاقی وزیر تجارت کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث شپنگ اور تجارت پر اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ کنٹینرز کی رسک انشورنس اور لاجسٹک اخراجات میں اضافے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے، یہ پورا خطہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے، اس لیے خلیجی ممالک سے توانائی کے وسائل پر انحصار کرنے والے کئی ممالک بھی اس صورتحال سے متاثر ہو سکتے ہیں، بعض معاملات میں متبادل انتظامات ممکن ہیں تاہم کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جو حکومت کے مکمل اختیار میں نہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے