ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ جانے والی فضائی پروازیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
آج بھی پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف شہروں کے لیے مجموعی طور پر 104 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، تاہم کچھ پروازوں کی بحالی کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔
کراچی سے دبئی، دوحہ، ابوظبی، شارجہ اور بحرین کے لیے 21 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ لاہور سے دبئی، دوحہ، شارجہ، کویت، دمام اور ابوظبی جانے والی 27 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
اسلام آباد سے دوحہ، ابوظبی، بحرین، شارجہ اور دبئی کے لیے 29 پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ 14 پروازوں کی روانگی کی تیاری جاری ہے۔ پشاور سے دوحہ، ابوظبی، دبئی، شارجہ اور جدہ کے لیے 12 پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ 4 پروازیں شیڈول کے مطابق روانہ ہونے کا امکان ہے۔
ملتان سے دوحہ، دبئی، شارجہ، ابوظبی اور دمام کے لیے 8 پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ 7 پروازوں کی روانگی متوقع ہے۔ فیصل آباد سے دبئی، شارجہ اور جدہ کے لیے 7 پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ 2 پروازیں چلنے کی امید ہے۔
کوئٹہ سے شارجہ اور دبئی کے لیے آج کی چاروں پروازوں کے آپریٹ ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ جانے والی منسوخ پروازوں کی مجموعی تعداد 1130 تک پہنچ چکی ہے۔
دوسری جانب امارات کے ہوائی اڈے بتدریج معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں اور ایک دن کے دوران تقریباً 400 پروازیں چلائی گئیں، جن میں دبئی سے 250، ابوظبی سے 50 اور شارجہ سے 45 پروازیں شامل ہیں۔
راس الخیمہ سے لاہور اور ممبئی کے لیے 4 پروازیں چلائی گئیں، تاہم دوحہ، بحرین اور کویت سے چھ دن گزرنے کے باوجود کوئی پرواز روانہ نہیں ہو سکی۔
امارات سے تقریباً 30 ہزار افراد کے انخلاء کے لیے دبئی، ابوظبی اور شارجہ سے خصوصی پروازوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
