English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایک کھرب روپے بجلی سبسڈی کی تجویز پر آئی ایم ایف کو اعتراض

القمر

پاکستان کے بجلی کے شعبے سے متعلق ایک بار پھر سنگین مالی سوالات سامنے آ گئے ہیں، جہاں آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً ایک کھرب روپے کے قریب سبسڈی مختص کرنے کی حکومتی تجویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اعتراض اٹھا دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت نے جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 2026-27 کے لیے بجلی کے شعبے میں تقریباً 990 ارب روپے درکار ہونے کا مؤقف اختیار کیا ہے، مگر آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ رقم موجودہ مالی سال کے 893 ارب روپے سے کم رکھی جائے۔

اس معاملے نے حکومت کے ان دعوؤں کو بھی کمزور کر دیا ہے جن میں کہا جاتا رہا کہ پچھلے 2 برس میں بجلی کے شعبے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر سال اتنی بھاری رقم سبسڈی کی مد میں رکھی جا رہی ہے تو پھر اصلاحات کے دعوے پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ رقم میں 400 ارب روپے سے زیادہ بجلی چوری، کم وصولیوں اور نظام کی نااہلیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے شامل کیے گئے ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جو سب سے زیادہ تشویش پیدا کرتا ہے، کیونکہ اس کا سیدھا مطلب یہ بنتا ہے کہ بجلی کے نظام میں موجود خرابیاں اب بھی جوں کی توں ہیں اور ان کا بوجھ بالآخر قومی خزانے اور ٹیکس دینے والے عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

حکومت کی طرف سے یہ بھی مؤقف سامنے آیا ہے کہ کے الیکٹرک کے قرضوں کی معافی، گردشی قرضے پر زیادہ سودی ادائیگیاں اور توانائی معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات نہ ہو سکنے کی وجہ سے اضافی رقم درکار ہوگی۔ خاص طور پر چین کی جانب سے توانائی معاہدوں پر دوبارہ بات چیت سے انکار نے حکومت کے لیے صورت حال مزید مشکل بنا دی ہے۔

اس پورے معاملے میں ایک اور پہلو بھی خاص توجہ طلب ہے اور وہ ہے کراس سبسڈی کا نظام۔ حکومت پہلے ہی دوسرے صارفین سے فی یونٹ 7 سے 12 روپے تک اضافی رقم وصول کرتی ہے تاکہ ماہانہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو رعایت دی جا سکے۔

اب اگر اس کے باوجود بجلی کے شعبے کے لیے مزید 100 ارب روپے اضافی مانگے جا رہے ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مالی ڈھانچہ پائیدار نہیں رہا۔ ایک طرف بجلی صارفین مہنگی قیمت ادا کر رہے ہیں، دوسری طرف ریاستی خزانے سے بھی مسلسل بڑی رقوم اس شعبے میں ڈالی جا رہی ہیں، مگر خسارہ ختم ہونے کے بجائے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گردشی قرضے کا مسئلہ بھی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اختلاف کا بڑا سبب بن گیا ہے۔

پاور ڈویژن نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ اگلے مالی سال میں گردشی قرضے میں 500 ارب روپے سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ اضافہ صرف 300 سے 325 ارب روپے کے درمیان محدود رکھا جائے۔ یعنی عالمی مالیاتی ادارہ نہ صرف سبسڈی کم دیکھنا چاہتا ہے بلکہ گردشی قرضے کے بہاؤ کو بھی سخت حد میں رکھنا چاہتا ہے۔

حکومت نے کمرشل بینکوں سے 1.23 کھرب روپے کا نیا قرض لے کر گردشی قرضے کے مجموعی حجم کو کم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، مگر خود یہ اعتراف بھی کر لیا گیا ہے کہ 2031 سے پہلے اس بہاؤ کو صفر تک لانا ممکن نہیں ہوگا۔ اس اعتراف نے ظاہر کر دیا ہے کہ مسئلہ وقتی انتظامی فیصلوں سے حل ہونے والا نہیں بلکہ اس کے لیے گہری اور سخت اصلاحات درکار ہیں۔

گزشتہ ماہ وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے تسلیم کیا تھا کہ بجلی چوری اور نظامی نقصانات کا خرچ براہ راست ٹیرف میں شامل نہیں کیا جاتا بلکہ وزارت خزانہ سبسڈی کی صورت میں ادا کرتی ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سبسڈی بھی کہیں نہ کہیں عوام ہی کی جیب سے نکلتی ہے۔ گزشتہ سال صرف تنخواہ دار طبقے نے 606 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بجلی کے شعبے کی نااہلیوں کا مالی بوجھ بالآخر وہی شہری برداشت کر رہے ہیں جو پہلے ہی مہنگائی اور ٹیکسوں کے دباؤ میں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر عوامی سطح پر بھی سوالات بڑھ رہے ہیں کہ آخر بجلی چوری روکنے، وصولیاں بہتر بنانے اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی درست کرنے کے لیے اب تک کیا مؤثر اقدامات کیے گئے۔

آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث نقصانات کم نہیں کیے جا سکے، تاہم سندھ میں زیادہ نقصانات کے بارے میں پاور ڈویژن کے پاس کوئی اطمینان بخش جواب نہیں تھا۔

حیدرآباد اور سکھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز کی مدت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت نئے ارکان کی تقرری کے عمل میں ہے، مگر ماہرین کے مطابق محض تقرریاں کافی نہیں ہوں گی جب تک سخت نگرانی، احتساب اور نظم و ضبط کا مستقل نظام نافذ نہ کیا جائے۔

اسی دوران حکومت نے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ کا نیا نظام لانے سے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے، جس کے تحت قومی گرڈ سے بجلی تقریباً 60 روپے فی یونٹ تک بیچی جائے گی جبکہ شمسی توانائی سے حاصل شدہ بجلی 9 روپے فی یونٹ سے بھی کم قیمت پر خریدی جائے گی۔

اس تبدیلی کو بھی حکومت مالی بوجھ کم کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کر رہی ہے، مگر اصل سوال اب بھی یہی ہے کہ آیا یہ تمام اقدامات اس شعبے کی پرانی بیماریوں کا علاج بن سکیں گے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے