English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خطے کی کشیدہ صورتحال: حکومت کا کورونا جیسی پلاننگ اختیار کرنے پر غور

القمر

وفاقی حکومت نے خطے کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک ایسے ہنگامی منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے جسے کئی حلقے کورونا کے دنوں میں اپنائے گئے انتظامی طریقہ کار سے ملتا جلتا قرار دے رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش، درآمدی پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں رکاوٹ اور آر ایل این جی کی دستیابی سے متعلق خدشات کے باعث حکومت نے توانائی کی بچت، طلب میں کمی اور قیمتوں کے نئے نظام پر مبنی مرحلہ وار حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

اس منصوبے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر 15 دن کے بجائے ہر ہفتے ردوبدل کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ سرکاری اجلاسوں کو زیادہ سے زیادہ ورچوئل انداز میں منتقل کرنے اور تعطیلات کی تعداد بڑھانے جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔

ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حکمت عملی کو 3 مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور مجموعی طور پر 3 سے 4 درجن تجاویز مرتب کی گئی ہیں، جو وزیراعظم شہباز شریف کو منظوری کے لیے پیش کی جانی ہیں۔

اگر انہیں حتمی منظوری مل جاتی ہے تو ان پر فوری عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں حکومتی اداروں اور سرکاری شعبے میں توانائی بچانے والے اقدامات لاگو کیے جائیں گے۔

اس مرحلے کا مقصد یہ ہے کہ ریاست خود مثال قائم کرے اور بجلی، ایندھن اور دفتری سرگرمیوں میں غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں۔ ورچوئل اجلاسوں کا دائرہ بڑھانا اسی سلسلے کی ایک اہم تجویز ہے تاکہ سفر کم ہو، ایندھن بچے اور دفتری سرگرمیوں میں توانائی کے استعمال کو محدود کیا جا سکے۔

دوسرے مرحلے میں نجی شعبے، خاص طور پر اسکولوں، جامعات اور اسپتالوں کے لیے نئے انتظامی طریقے متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آن لائن اسائنمنٹس اور جزوی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے نقل و حرکت اور توانائی کے استعمال میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اگرچہ یہ فیصلہ بظاہر تعلیمی اور انتظامی نوعیت کا لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے بنیادی مقصد یہی ہے کہ ٹرانسپورٹ اور بجلی کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔

اس پہلو نے کورونا دور کی یاد تازہ کر دی ہے، جب ملک بھر میں کئی سرگرمیاں محدود کر کے آن لائن منتقل کی گئی تھیں۔ اب فرق صرف یہ ہے کہ مقصد وبا سے بچاؤ نہیں بلکہ ممکنہ ایندھن بحران کے اثرات کم کرنا ہے۔

اس مجوزہ منصوبے کا سب سے نمایاں اور عوامی سطح پر فوری اثر ڈالنے والا حصہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ ہے۔  حکومت اب قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل پر غور کر رہی ہے، جس سے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا اثر زیادہ تیزی سے مقامی مارکیٹ تک منتقل ہو سکے گا۔

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے اور تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو حکومت کے لیے پرانے نرخ ناموں کے ساتھ چلنا مشکل ہو جائے گا، اس لیے قیمتوں کو زیادہ تیزی سے ایڈجسٹ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم اس تجویز پر عوامی ردعمل سخت ہو سکتا ہے، کیونکہ ہفتہ وار اضافہ عام آدمی کے لیے مالی دباؤ میں مزید اضافہ کرے گا۔

وزارت خزانہ کے سرکاری بیان کے مطابق خطے میں ابھرتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو محض معمول کا اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک حساس قومی چیلنج سمجھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے اور اگر وہاں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے فوری مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی خدشے نے حکومت کو پہلے سے حفاظتی منصوبہ بندی پر مجبور کیا ہے۔

اعلیٰ سرکاری حلقوں کے مطابق اس پوری حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر بیرونی حالات اچانک خراب ہو جائیں تو ملک کے اندر توانائی کی طلب کو منظم انداز میں کم کیا جا سکے۔ اس میں سرکاری دفاتر کے اوقات، غیر ضروری سفر، آن لائن کام، محدود دفتری سرگرمیاں اور قیمتوں کے فوری ردوبدل جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ ابھی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، مگر اتنا واضح ہے کہ حکومت صورت حال کو معمولی نہیں سمجھ رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی، انتظامی اور روزمرہ زندگی سے جڑی متعدد تجاویز ایک ہی منصوبے میں جمع کی گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ توانائی کی بچت کے اقدامات اور عوامی سہولت کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔  اگر قیمتیں بہت تیزی سے بڑھتی ہیں اور ساتھ ہی معمولات زندگی پر پابندیاں لگتی ہیں تو اس کے سیاسی اور معاشی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔

دوسری طرف اگر پیشگی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو ممکنہ بحران کہیں زیادہ مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے آنے والے دنوں میں وزیراعظم کی منظوری اور اس کے بعد عمل درآمد کا انداز طے کرے گا کہ پاکستان اس ممکنہ توانائی امتحان کا سامنا کتنی تیاری کے ساتھ کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے