اسرائیلی دفاعی فورس (آئی ڈی ایف) نے تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے زیرِ زمین بنکر کی تھری ڈی ویڈیو جاری کر دی ہے، جس میں اس بنکر کی مکمل اندرونی ساخت اور حفاظتی انتظامات کی تفصیل دکھائی گئی ہے۔
امریکی جریدے نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ فضائی حملے کے دوران آیت اللہ خامنہ ای موجود تھے، اس حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کے ساتھ وزیر دفاع اور ان کے خاندان کے چند قریبی افراد بھی شہید ہوئے۔
آئی ڈی ایف نے بتایا کہ حملے میں اسرائیلی فضائیہ کے تقریباً 50 لڑاکا طیارے استعمال ہوئے، جنہوں نے بنکر کے دفاعی نظام کو نشانہ بنایا اور اس کی اندرونی ساخت پر قابو پایا۔ جاری کی گئی تھری ڈی اینیمیشن میں بنکر کے مختلف حصوں، داخلی راستوں اور حفاظتی پرتوں کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ عوام اور عالمی مبصرین کو اس جگہ کی ساخت اور اہمیت کا اندازہ ہو سکے۔
This is where late Iranian Supreme Leader Ali Khamenei was located when the IDF attacked with 50 Israeli Air Force fighter jets. The Israeli Defense Forces released a 3-D animation laying out “an illustration of the underground bunker” in Tehran. pic.twitter.com/7yJb5XWmC2
— New York Post (@nypost) March 6, 2026
اس واقعے کے بعد اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ مواد نے خطے میں موجود کشیدگی اور ایران کے عسکری قیادت کے خلاف جاری کارروائیوں کی شدت کو دوبارہ واضح کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بصری تفصیلات نہ صرف عسکری حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس تنازعے کے حساس اور پیچیدہ پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔
یہ اقدام ایران کی زیرِ زمین فوجی تنصیبات کی نوعیت اور ان کے دفاعی ڈھانچے کے بارے میں عالمی برادری کو آگاہ کرنے کے لیے ایک اہم سیاسی اور عسکری پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی اور دفاعی تیاریوں کا منظر واضح ہوتا ہے۔
