English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی فضائیہ کی ناکامی: لڑاکا طیاروں کی تباہی کی بڑی وجہ مقامی انجن

القمر

ایک میڈیا  رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے بار بار تباہ ہونے کی بڑی وجہ بھارت میں تیار کیے جانے والے انجن ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ ایس یو-30 جمعرات کی رات ریاست آسام کے علاقے کاربی اینگلونگ میں گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے میں اسکواڈرن لیڈر انوج اور فلائٹ لیفٹیننٹ پوریش دراگکر ہلاک ہوگئے جس کی تصدیق بھارتی فضائیہ نے بھی کی ہے۔

ایس یو-30 طیارے کو بھارتی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ طیارہ روسی کمپنی سخوئی کے ڈیزائن پر تیار کیا جاتا ہے جبکہ بھارت میں اس کی تیاری ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کے کارخانوں بنگلور اور ناسک میں کی جاتی ہے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کے مطابق بھارتی فضائیہ کے پاس پہلے ایس یو-30 ساخت کے 272 طیارے موجود تھے تاہم حادثات کے باعث اب ان کی تعداد کم ہو کر تقریباً 260 رہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 برسوں کے دوران بھارتی فضائیہ کے ایک درجن سے زائد ایس یو-30 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں جو ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

راہل بیدی کے مطابق بھارتی فضائیہ عام طور پر جنگی طیاروں کے کریش ہونے کی تحقیقات کی رپورٹس خفیہ رکھتی ہے۔ بھارتی صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس یو-30 طیاروں کے انجن میں تکنیکی خرابی موجود ہو سکتی ہے جبکہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے مسائل کو منظرعام پر آنے سے روک دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 50 برسوں کے دوران بھارتی فضائیہ کے تقریباً 470 مگ-21 جنگی طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مگ-21 کے انجن میں بھی کئی تکنیکی خامیاں تھیں لیکن انہیں باضابطہ طور پر کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس وقت بھارتی فضائیہ کو جنگی صلاحیت کے لیے 45 اسکواڈرن طیاروں کی ضرورت ہے تاہم اس وقت اس کے پاس صرف 29 اسکواڈرن رہ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ کے پاس اس وقت مقامی طور پر تیار کیے گئے تقریباً 30 سے 32 تیجس لڑاکا طیارے بھی موجود ہیں، تاہم ایک حادثے کے بعد دبئی ایئر شو کے بعد سے ان میں سے کئی طیارے گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ایس یو-30 طیارے کے حادثات کی تحقیقات میں کسی بڑی تکنیکی کمی کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ بھارتی فضائیہ کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے