English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آسٹریلیا کا ایران  کی جنگ میں شرکت سے انکار

القمر

کینبرا: آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوابی حملوں سے متاثر ہونے والے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو فوجی مدد فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے، ایران کے خلاف کسی جنگی کارروائی یا زمینی فوجی تعیناتی میں حصہ نہیں لے گا۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ حکومت ان ممالک کی مدد کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے جو ایران کے جوابی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں، ممکنہ فوجی تعاون کا مقصد متاثرہ ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کے خلاف دفاعی تحفظ فراہم کرنا ہو سکتا ہے۔

پینی وونگ نے واضح کیا کہ آسٹریلیا ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں شامل نہیں ہوگا، حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ایران میں زمینی فوجی دستے بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں،یہ عراق جیسا معاملہ نہیں ہے اور ہم ہاورڈ حکومت کی طرح آسٹریلوی شہریوں کو زمینی جنگ میں بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

خطے میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا جس میں ایک ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر سمیت کئی اعلیٰ فوجی حکام بھی اس کارروائی میں شہید ہوئے۔

اس کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتی تنصیبات اور اسرائیل کے کئی شہروں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا جس کے بعد خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلوی حکومت نے اپنے شہریوں کے انخلا کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں،دبئی سے میلبورن آنے والی ایک پرواز میں 151 آسٹریلوی شہری اتوار کو وطن پہنچ رہے ہیں جبکہ ایک اور پرواز شام کے وقت سڈنی پہنچنے کی توقع ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بین الاقوامی پروازیں بحال ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات سے اب تک 1500 سے زائد آسٹریلوی شہری وطن واپس آ چکے ہیں جبکہ اندازاً ایک لاکھ پندرہ ہزار آسٹریلوی شہری اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں موجود تھے جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے۔

  • وہاج فاروقی
  • ویب ڈیسک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے