تہران :اسرائیلی جارحیت نے اپنے فضائی حملوں میں ایران کے آئل انفراسٹرکچر کو پہلی بار نشانہ بنایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق رات گئے جنوبی تہران میں مرکزی ریفائنری کے قریب واقع آئل ڈپو پر حملہ کیا گیاجبکہ شمال مغربی تہران میں بھی ایک فیول اسٹوریج کمپلیکس میں آگ بھڑک اُٹھی۔ دارالحکومت کے علاقے شہران میں بھی ایک اور حملے کی اطلاع ملی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، دور سے آگ کے شعلے بلند ہوتے اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جس سے علاقے میں شدید خوف اور ہلچل پھیل گئی۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اور نشانہ بنائے گئے ڈپو ایران کے فوجی اداروں اور ٹینکوں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے، یہ کارروائی ایران کے فوجی انفراسٹرکچر کی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ یہ حملے ایران کے خلاف جاری فوجی اقدامات میں اہم پیش رفت ہیں اور اسرائیل اپنی حفاظت کے لیے اس سلسلے میں مزید کارروائیاں جاری رکھے گا،ایران کی جانب سے اس حملے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
خیال رہےکہ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا جس میں ایک گرلز کالج بھی تباہ ہوگیا، جس میں تقریبا 177 طالبات شہید ہوگئیں ہیں، امریکا اور اسرائیل نے اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھیں ہوئی ہے اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
