یومِ شہادتِ حضرت علیؓ کے موقع پر ملک بھر میں نکالے جانے والے جلوسوں اور مجالس کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے کے مقصد سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
حکومت اور علمائے کرام کے درمیان ہونے والی مشاورت کے بعد جلوسوں کے دورانیے کو کم کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کے جید علمائے کرام نے ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں سیکیورٹی اور انتظامی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ 21 رمضان المبارک کو یومِ شہادتِ حضرت علیؓ کے موقع پر نکالے جانے والے تمام مرکزی جلوس نماز مغرب تک مکمل کر لیے جائیں گے جبکہ دیگر جلوسوں اور مذہبی سرگرمیوں کے دورانیے کو بھی محدود رکھا جائے گا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد عزاداروں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور سیکیورٹی اداروں کو بہتر انداز میں انتظامات کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ مذہبی تقریبات پرامن انداز میں مکمل ہو سکیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت عزاداروں کی حفاظت اور سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور سیکیورٹی ادارے ملک بھر میں مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علمائے کرام نے ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی قومی اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں شریک علمائے کرام نے حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر کی کسی بھی سازش کو قومی اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے علما کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مذہبی ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے حکومت اور مذہبی قیادت کا مشترکہ کردار انتہائی اہم ہے۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔
