پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ابتداءمیں پاکستان تحریک انصاف نے اعلان کیا تھا کہ اگر “ٹرمپ صاحب” اقتدار میں آئے تو یہی شخص ان کے لیے نجات دہندہ ثابت ہوگا، مگر جب اس شخص نے ان سے منہ موڑا تو اب وہی کردار ان کے نزدیک ناکامی کی علامت بن گیا ہے۔
اب مسلم لیگ ن کے حلقوں میں اسے مسیحا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا شہباز شریف اور مسلم لیگ کے نزدیک وہ اب بھی نوبل انعام کے لیے نامزدگی کا مستحق ہے یا نہیں؟ ۔
ویسے بھی اسے “فیلڈ مارشل” کا خطاب بہت پسند ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ محبت یکطرفہ ہے یا باہمی؟
انہوں نے مزید کہا ہے کہ جو منظرنامہ سامنے آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک جنونی ذہن پوری دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
کیا اس دنیا میں اب عقل و شعور باقی رہ گیا ہے؟ کیا عالمی اقدار، اصول، اور قوانین اب بھی کوئی حیثیت رکھتے ہیں؟ وہ عالمی ادارے کہاں ہیں جو امن اور انصاف کے ضامن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟
ایمل ولی خان نے مزید کہا ہے کہ کوئی بھی مذہب جنگ اور خونریزی کی تعلیم نہیں دیتا، اس لیے دنیا کو جنگ اور تشدد کے خلاف متحد ہونا ہوگا، دوسرے لفظوں میں اسرائیل اور امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف بھی آواز اٹھانی ہوگی۔
