English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش شفیق الرحمن کا بی این پی اراکین سے حلف اٹھانے کا مطالبہ

القمر

امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش شفیق الرحمن نے بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ آئینی اصلاحات کونسل کے رکن کے طور پر حلف اٹھائیں اور پارلیمانی عمل میں مثبت کردار ادا کریں۔

امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی جزوی طور پر دی گئی نائب اسپیکر کی نشست قبول کرنے کے حق میں نہیں ہے اور جولائی میں پیش کی گئی اصلاحاتی تجاویز کے مطابق اپوزیشن کے حق میں مکمل اور مؤثر پوزیشنیں حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔

پارلیمانی اجلاس سے قبل میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شفیق الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد صرف مخالفت یا اندھا تعاون نہیں ہے، حکومت کے ملک و عوام کے مفاد میں کسی مثبت اقدام کی حمایت کی جائے گی، تاہم اگر کوئی فیصلہ نقصان دہ نکلا تو اسے پہلے نشاندہی کیا جائے گا، اصلاح کا موقع دیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر احتجاج بھی کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے اجلاس میں اپوزیشن اتحاد کے منتخب ارکان بھی موجود تھے، جہاں ملک و عوام کی توقعات کے مطابق اپوزیشن کے کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

شفیق الرحمن نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ عوام کی توقعات کو پورا کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے۔ ہم ایک ذمہ دار اپوزیشن کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ملک کی تاریخ میں کئی پارلیمنٹیں مکمل مدت تک قائم نہیں رہ سکیں۔ موجودہ اسمبلی طویل سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد قائم ہوئی ہے اور 24 کی تحریک میں متعدد افراد نے جان و مال کی قربانی دی، ان قربانیوں کے احترام میں انصاف اور غیر جانبدار معاشرہ قائم کرنا لازمی ہے۔

جماعت اسلامی نے انتخابات اور ریفرنڈم کے نتائج کو قبول کرتے ہوئے حکومت سے کہا کہ وہ جولائی میں دیے گئے اصلاحاتی وعدوں کو نظر انداز نہ کرے، کیونکہ 24 کی قربانیوں کو فراموش کرنا ملک کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ نائب اسپیکر کے عہدے کے حوالے سے شفیق الرحمن نے کہا کہ بی این پی نے غیر رسمی رابطہ کیا، لیکن اصلاحات مکمل طور پر نافذ ہونی چاہئیں، جزوی نہیں۔

ادھر جماعت اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر نے صدر محمد شہاب الدین کو آمرانہ رویے کا حلیف  قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو پارلیمنٹ میں تقریر کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اپوزیشن کے ارکان کو پارلیمانی طریقہ کار، معیار اور آداب سے متعلق مکمل بریفنگ دی گئی ہے تاکہ نئے ارکان مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

یہ پیش رفت اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ نئے پارلیمانی سیشن میں اپوزیشن ذمہ دارانہ، اصولی اور قومی مفاد میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ حکومت سے واضح توقع ہے کہ وہ اپنے اصلاحاتی وعدوں کو مکمل اور شفاف طور پر عملی جامہ پہنائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے