English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بینکوں کو اپنا ہدف بنا لیا

القمر

تہران: ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو ممکنہ اہداف کے طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ حملوں میں ایران کے ایک بینک کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد ایران نے خطے میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ معاشی مراکز کے خلاف اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق دشمن کی کارروائیوں نے ایران کو سخت ردعمل پر مجبور کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں موجود امریکا اور اسرائیل سے منسلک اقتصادی مراکز ممکنہ طور پر ایرانی کارروائیوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔ ان میں بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں کے دفاتر اور مالیاتی ادارے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق گوگل، مائیکروسافٹ اور اوریکل جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے دفاتر اور ان سے وابستہ مالیاتی ادارے بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں۔

پاسداران انقلاب نے ایرانی عوام کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے دور رہیں جو امریکا یا اسرائیل سے وابستہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر حملوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دارالحکومت  تہران میں بمباری کے دوران زور دار دھماکوں اور لڑاکا طیاروں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ ایک شہری کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

اسی طرح اصفہان میں ہونے والی بمباری کے نتیجے میں روسی قونصل خانے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا جبکہ تبریز میں حملے کے دوران 3 شہری جاں بحق اور 4 زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے جاری حملوں کے بعد اب تک ایران میں ہزاروں شہری مقامات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔

دوسری جانب جنگ کی وجہ سے پورے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے