اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی شفا اسپتال منتقلی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے جو ان کی صحت کا معائنہ کر کے یہ طے کرے گا کہ انہیں ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ بھی موجود تھے۔
سماعت کے دوران سردار لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اکتوبر سے بانی پی ٹی آئی دائیں آنکھ کی بینائی سے متعلق مسئلے کی شکایت کر رہے ہیں، تاہم جیل کے ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر اسے معمولی قرار دیا، جب بینائی میں نمایاں کمی آئی تو انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا، لیکن اس حوالے سے اہل خانہ اور وکلا کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔
عدالت نے سماعت کے دوران ہدایت کی کہ پہلے پٹیشنر کے وکیل کو مؤقف بیان کرنے دیا جائے جبکہ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو میڈیکل رپورٹس اور متعلقہ فیصلوں کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی گئی۔
سردار لطیف کھوسہ نے جیل رولز اور ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور زندگی کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے، اس لیے انہیں فوری طبی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ عدالت نے فریقین کو اپنے دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
دوران سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو کس نوعیت کے کیس میں ریلیف ملا تھا، جس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے بتایا کہ وہ رٹ پٹیشن تھی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کے علاج کی فراہمی کو تسلیم کر رہی ہے اور طبی معائنہ بھی جاری ہے، تاہم اگر مزید چیک اپ کی ضرورت ہو تو اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے،ڈاکٹر ندیم قریشی بہترین ریٹینا اسپیشلسٹ ہیں اور وہ خاندان کو صورتحال سے آگاہ رکھیں۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست نمٹا دی اور چیف کمشنر اسلام آباد کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی، پمز کے ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی میڈیکل بورڈ میں شامل ہوں گے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا مکمل معائنہ کر کے یہ فیصلہ کرے گا کہ انہیں اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ عدالت نے جیل رولز کے مطابق اہل خانہ کو طبی صورتحال سے آگاہ رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ بورڈ سرکاری ڈاکٹروں پر مشتمل ہوگا جو غیر جانبدارانہ طور پر طبی معائنہ کرے گا۔
