راولپنڈی: لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی عمرہ ادائیگی کے لیے بیرون ملک روانگی سے متعلق دائر انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں کیس کی سماعت دو رکنی ڈویژن بینچ نے کی جس میں جسٹس جواد حسن اور جسٹس طارق محمود باجوہ شامل تھے۔ سماعت کے دوران فریقین کے وکلا نے عدالت کے روبرو اپنے اپنے دلائل پیش کیے جبکہ حکومتی مؤقف بھی پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کے باعث شیخ رشید احمد کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت سنگل بینچ کی جانب سے شیخ رشید کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔
دوسری جانب پٹیشنر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل پندرہ کے تحت ہر شہری کو آزادانہ نقل و حرکت اور بیرون ملک سفر کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ ماضی میں ایسے متعدد مقدمات میں ٹرائل جاری ہونے کے باوجود مختلف افراد کو بیرون ملک سفر کی اجازت دے چکی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید احمد نے اب تک عدالتی رعایت کا کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔ جسٹس جواد حسن نے سوال اٹھایا کہ کیا اس معاملے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ کو نہیں بھیجا جا سکتا۔
اس موقع پر پٹیشنر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس اسٹاپ لسٹ سے کسی شخص کا نام نکالنے کا اختیار موجود نہیں ہے، اس لیے معاملے کا فیصلہ ہائیکورٹ ہی کو کرنا ہوگا۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا، جو بعد میں سنائے جانے کا امکان ہے۔ کیس کے فیصلے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ شیخ رشید احمد کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک سفر کی اجازت دی جاتی ہے یا نہیں۔
