لندن:بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بیٹ مین نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وزیرِ دفاع کی جھنجلاہٹ اس بات کی علامت محسوس ہوئی کہ امریکی انتظامیہ دبائومیں ہے۔
انہوں نے اپنے تجزیے میں کہا کہ میں ابھی پینٹاگون سے نکلا ہوں جہاں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
یہ محسوس ہوا کہ پیٹ ہیگستھ بڑھتی ہوئی امریکی میڈیا کے تندوتیز سوالات سے بچنے کے لیے جنگ کو اپنے دفاع کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
یہ اسکروٹنی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ایرانی حکومت کی بظاہر مزاحمت اور امریکی فوجی ہلاکتوں کی خبروں سے جنم لے رہی ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے ابتدا ہی سے میڈیا کو للکارا اور کہا کہ میڈیا کو یہ ’ماننا‘ ہوگا کہ امریکا اور اسرائیل ایرانی فوج کو ’تباہ‘ کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت اب آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور وہاں ’سٹارز اینڈ سٹرائپس اور سٹار آف ڈیوڈ‘ دیکھتی ہے، جسے انھوں نے حکومت کا بدترین خواب قرار دیا۔
ان کے مطابق ایران کے روایتی ہتھیار، اسلحہ خانے اور پیداوار تباہ کی جا رہی ہے اور حکومت زمین کے نیچے ’چوہوں‘ کی طرح دبکی ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو زیادہ ’محبِ وطن‘ ہونا چاہیے۔لیکن دو اہم حکمتِ عملی کے سوالات پر، آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے چھٹکارا پانے کے حوالے سے، ان کے جوابات زیادہ تر گول مول تھے۔
ان کی جھنجلاہٹ اس بات کی علامت محسوس ہوئی کہ امریکی انتظامیہ دبائومیں ہے۔
