ایران کے خلاف جاری جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے اندر اختلافات نمایاں ہو گئے ہیں۔
اس جنگ کے معاملے پر پارٹی کے اندر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ ایک جانب کئی بااثر رہنما اور کارکن ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب متعدد قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضروری جنگ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ مؤقف بھی زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیل کا تنازع ہے اور امریکا کو اس میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اختلافات نے ریپبلکن پارٹی کے اندر نظریاتی تقسیم کو مزید واضح کر دیا ہے جو آئندہ انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
امریکی میڈیا کی معروف شخصیت ٹکر کارلسن نے بھی کھل کر کہا ہے کہ امریکا کو اس تنازع سے جلد نکل جانا چاہیے۔ کارلسن، جو طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں، نے مبینہ طور پر گزشتہ ماہ صدر سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔
