واشنگٹن :ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائی نے امریکا کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے مختلف رہنما اور کارکن اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ متعدد شخصیات اسے غیر ضروری اور خطرناک قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی دراصل اسرائیل کی جنگ ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے۔ معروف امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن نے کھل کر کہا ہے کہ امریکا کو اس تنازع سے جلد نکل جانا چاہیے۔
کارلسن جو طویل عرصے سے صدر ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں، مبینہ طور پر گزشتہ ماہ صدر سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کر چکے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ امریکا کے براہِ راست مداخلت سے ملکی مفادات اور ریپبلکن ووٹروں میں تقسیم بڑھ سکتی ہے۔
اسی تناظر میں سامنے آنے والے سروے بتاتے ہیں کہ ریپبلکن ووٹروں میں بھی ایران کے خلاف جنگ پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔ کچھ حلقے اس اقدام کو ضروری سمجھتے ہیں، بڑی تعداد اسے غیر ضروری خطرہ قرار دیتی ہے۔
