English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سوشل میڈیاپر ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر25 افراد گرفتار

القمر

ابوظبی:متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) میں سوشل میڈیا کے ذریعے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پچیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، گرفتار افراد مبینہ طور پر مختلف گروپوں کی صورت میں سرگرم تھے اور آن لائن مواد کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلانے میں ملوث تھے۔

اماراتی حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے سوشل میڈیا پر مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو حراست میں لیا، گرفتار افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے جنہیں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق گرفتار افراد میں بھارت کے سترہ شہری شامل ہیں جبکہ پاکستان، نیپال اور فلپائن کے دو، دو شہری بھی حراست میں لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بنگلا دیش اور مصر کا ایک ایک شہری بھی گرفتار افراد میں شامل ہے، تمام افراد مختلف نوعیت کی آن لائن سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

اماراتی حکام نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمان تین مختلف گروپوں کی صورت میں کام کر رہے تھے، ایک گروپ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مخصوص مواد کی تشہیر میں مصروف تھا جبکہ دوسرے گروپ کی ذمہ داری اس مواد کو مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلانا تھی،ان گروپس کی سرگرمیوں کا مقصد آن لائن ماحول میں گمراہ کن معلومات کو فروغ دینا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک گروپ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی مدد سے جعلی ویڈیوز تیار کر رہا تھا۔ ان ویڈیوز کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جا رہا تھا تاکہ غلط معلومات پھیلائی جا سکیں اور عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق ملزمان کے زیر استعمال ڈیجیٹل آلات اور دیگر شواہد کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور تکنیکی ماہرین ان کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف اماراتی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اماراتی حکام نے عوام کو بھی خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی غیر مصدقہ یا مشکوک مواد کو شیئر کرنے سے گریز کریں اور اگر کسی مشتبہ سرگرمی کا علم ہو تو متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع دیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے