English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران جنگ کے فیصلے پر ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں پچھتاوا، امریکی مداخلت طویل ہونے کا خدشہ

القمر

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں اور اعلیٰ حکام کے درمیان ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے پر اختلافات اور پچھتاوے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کے کچھ ارکان کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن نے ایران کی مزاحمت اور صلاحیت کو کم سمجھا اور جنگ کے ممکنہ نتائج کا درست اندازہ نہیں لگایا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے چند اہم مشیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز سے پہلے مزید وقت چاہتے تھے اور صورتحال کا بہتر جائزہ لینے کے حق میں تھے۔ تاہم ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا اور کہا کہ وہ اس آپریشن کو شروع کرنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ حالیہ فوجی کارروائیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے باعث خاصے پراعتماد تھے۔ ان میں گزشتہ برس ایران کے خلاف حملے اور جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری جیسے واقعات شامل تھے۔ اسی اعتماد کی بنیاد پر امریکی قیادت نے یہ اندازہ لگایا کہ بغیر زمینی فوج تعینات کیے بھی ایران کی حکومت کو کمزور یا ختم کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکی قیادت خلیج میں واقع اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ایک مشکل صورتحال میں پھنس گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کی صورتحال میں طاقتور فریق کو اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے مسلسل حملے جاری رکھنے پڑتے ہیں، چاہے اس کے نتائج محدود ہی کیوں نہ ہوں۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی سرگرمیوں اور ممکنہ مداخلت کے باعث صدر ٹرمپ مزید سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں اور اس صورتحال نے جنگ کے خاتمے کے امکانات کے بجائے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ابتدا میں اس فوجی کارروائی کو چار سے چھ ہفتوں پر مشتمل محدود آپریشن قرار دیا تھا۔ تاہم اب واشنگٹن اور اس کے اتحادی دارالحکومتوں میں حکام ایک طویل بحران کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق امریکی مداخلت ستمبر تک جاری رہ سکتی ہے، چاہے لڑائی کی شدت بعد میں کم ہی کیوں نہ ہو جائے۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ حملوں کا آغاز اٹھائیس فروری کو ہوا تھا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں اب تک تقریباً تیرہ سو افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب اس فوجی مہم کے آغاز سے اب تک چودہ امریکی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے طول پکڑنے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے