اسلام آباد: پاک افواج کی جانب سے جاری آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں، جس کا مقصد ملک میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنانا اور دہشت گرد عناصر کو ختم کرنا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق طور خم سیکٹر میں پاک فوج نے افغان طالبان کی ایک اہم پوسٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اس کارروائی میں طالبان کے مُتعدد ہتھیار اور ساز و سامان بھی ضائع کر دیے گئے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج اپنے اہداف کے حصول تک افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو مؤثر انداز میں نشانہ بناتی رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے شہری علاقوں میں کسی بھی نقصان سے بچنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں تاکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی مؤثر اور محفوظ انداز میں انجام پائے۔
اس سے قبل 16 مارچ کی شب پاک افواج نے کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات پر کارروائیاں کیں، کابل میں کیے گئے حملوں میں دو اہم مقامات نشانہ بنائے گئے، جن میں ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج شامل تھے، جو مؤثر انداز میں تباہ کر دیے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد طالبان کی پیش قدمی کو روکنا اور ان کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
ننگر ہار میں بھی افغان طالبان کی فوجی تنصیبات پر ٹھوس کارروائیاں کی گئی ہیں، ان حملوں میں دہشت گردوں کے ہتھیار، گولہ بارود اور ٹیکنیکل ساز و سامان کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔
پاک فوج کی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ آپریشن کے دوران ملکی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ شہریوں کی حفاظت بھی اولین ترجیح ہے۔ آپریشن غضب للحق کا مقصد نہ صرف دہشت گرد عناصر کو ختم کرنا بلکہ امن و امان کے قیام اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ہے۔
پاک فوج کی جانب سے جاری اس آپریشن سے نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کی طاقت کم ہوئی ہے بلکہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف باہمی تعاون اور اشتراک کی راہ بھی محدود ہو گئی ہے، پاک افواج کی کارروائیاں مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گی تاکہ ملک میں دہشت گردی کی کمر توڑی جا سکے اور علاقے میں پائیدار امن قائم ہو۔
