اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے وفاقی حکومت کے کسی بھی وزیر سے ملاقاتوں کی تردید کردی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری سہیل آفریدی سے آخری ملاقات سپریم کورٹ میں ہوئی تھی، اس کے علاوہ میری اور سہیل آفریدی کی کسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
عدالت میں جب سہیل آفریدی کے ساتھ ہماری آخری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا تھا کہ ہم عمران خان رہائی فورسز بنا رہے ہیں، ہم نے حکومت کے کس بندے سے ملنا ہے، یہ خود کسی کے آرڈر پر چلتے ہیں، عمران خان کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں ہے۔
علیمہ خان کہتی ہیں کہ اے آر وائی کو اس خبر پر معافی مانگنی چا ہیے کہ آپ کا ایک صحافی وہ پتہ نہیں کس فیڈ کے اوپر ہے، ہمیں تو پتہ ہے اسٹیبلشمنٹ یہ کام کرواتی ہے۔
اے آر وائی کا ایک معیار تھا لیکن انہوں نے نعیم بٹ کو نیوز ریلیز کے لیے رکھا ہوا ہے کہ جب آپ نے اصل معاملات سے توجہ ہٹانی ہو تو ایک من گھڑت خبر خوشی سے چلا دیتا ہے، مجھے لگتا ہے اے آر وائی کی مجبوری تھی۔
ایک سوال پر عمران خان کی ہمشیرہ نے جواب دیا کہ ہماری کیا عید ہے، ہمارا بھائی جیل میں قید ہے اس نے رمضان بھی جیل میں گزارا اور عید بھی گزارے گا، اگر ہم پریشر نہیں ڈالیں گے تو نہ عمران خان سے ملاقات ہوگی اور نہ ہی ان کا علاج ہوگا۔
ہم پاکستانیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مل کر ان پر پریشر ڈالیں، اگر سپریم کورٹ سے بھی انصاف نہیں ملتا تو پھر ہم دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گے اور واپس نہیں اٹھیں گے۔ چاہے آپ ڈنڈے مارو یا گرفتار کرو کیوں کہ عمران خان کے ساتھ یہ سلوک قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس تو کچھ نہیں ہے، ان کے پاس اختیار ہی نہیں ہے، عمران خان کو انہوں نے آئیسولیٹ کیا ہوا ہے، ان حکومتی لوگوں کی تو جرات ہی نہیں ہے کہ یہ عمران خان کے پاس جائیں۔
