English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جنگ کا اٹھارہواں روز، ایران نے اسرائیل اور امریکا کے اہداف پر ‘خیبر شکن’ و ‘قدر’ میزائل داغے دیے، یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں فوجی شمولیت سے انکار کر دیا

القمر

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازعے نے اٹھارہواں روز میں قدم رکھ دیا ہے، پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل حملوں کی ایک نئی اور وسیع لہر شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ایرانی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی ایک منظم عسکری مہم کے تسلسل میں انجام دی گئی، جسے ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت حالیہ حملوں کو نہ صرف شدت بلکہ تعداد کے لحاظ سے بھی نمایاں قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکام اسے اب تک کی 57 ویں لہر قرار دے رہے ہیں۔

ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مرحلے میں مختلف نوعیت کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، جنہیں ایک مذہبی و علامتی نسبت دیتے ہوئے ’یا سید الساجدین علیہ السلام‘ کے عنوان سے منسوب کیا گیا، یہ حملے مکمل منصوبہ بندی اور مخصوص اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے، ان میزائل حملوں کا ہدف مقبوضہ علاقوں میں موجود حساس اور اسٹریٹجک تنصیبات تھیں، جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، میزائل دفاعی نظام اور کمیونیکیشن انفراسٹرکچر شامل ہیں، ان کارروائیوں میں جدید ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جن میں خیبر شکن، عماد اور قدر جیسے میزائل شامل ہیں، جو طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران، شیراز اور کراچ سمیت ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اراک شہر میں ایک شدید حملے کے دوران ایک ہی خاندان کے کئی افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں ایک نومولود بچہ اور اس کی دو سالہ بہن بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، فی الحال یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ علی لاریجانی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں یا زخمی۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران میں 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 1500 سے زائد افراد شہید اور 18 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے، ایرانی بمباری سے 15 اسرائیلی بھی مارے گئے جبکہ تین ہزار 369 زخمی ہوئے، ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں 7 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 145 زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ کویت میں 6، عمان میں 3 اور سعودی عرب میں 2 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے ایک بیلسٹک میزائل حملے کو ناکام بنا دیا، تاہم ابوظبی کے علاقے بنی یاس میں میزائل کے ٹکڑے زمین پر گرنے والے ملبے کے باعث علاقے میں نقصان پہنچا اور ایک پاکستانی شہری جان کی بازی ہار گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ کشیدگی کے تناظر میں متحدہ عرب امارات میں غیر ملکیوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اب تک 7 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں تین پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، ان میں سے ایک ہلاکت دبئی میں جبکہ دو ابوظبی میں رپورٹ ہوئی ہیں۔

ایک بیان میں سعودی عرب کی وزارت دفاع نے  تصدیق کی ہے کہ گزشتہ تین گھنٹوں کے دوران مشرقی صوبے میں 21 ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی مار گرایا گیا، دفاعی کارروائی مکمل طور پر مؤثر رہی اور شہریوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہِ راست رابطے کا چینل دوبارہ فعال ہو گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ دونوں کے درمیان ہونے والے پیغامات کتنے اہم اور مؤثر ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد یہ فریقین کے درمیان پہلا براہِ راست رابطہ قرار پایا ہے، عراقچی نے وٹکوف کو ایسے پیغامات بھیجے جن میں تنازعہ ختم کرنے اور مذاکرات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی جبکہ وٹکوف نے اپنے پیغامات میں ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بعض ایرانی حلقوں نے عراقچی کے پیغامات کو نظرانداز کرنے کا دعویٰ کیا ہے، دوسری جانب اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے رپورٹ کو مسترد کیا ہے اور کہا کہ وٹکوف کے ساتھ آخری رابطہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہوا تھا اور جنگ کے دوران کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں سے بھرے اسکول کے کلاس رومز اب قتل گاہ میں تبدیل ہو گئے ہیں، اگر اسکول کی درست معلومات حملے سے قبل موجود نہیں تھیں تو یہ ایک بڑی انٹیلیجنس ناکامی شمار ہوتی ہے، اسکول پر حملے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور مستقبل میں ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ بلاک آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ یورپی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ سفارتکاری ہے اور اس مقصد کے لیے سیاسی مذاکرات اور ڈپلومیسی کو ترجیح دی جائے گی۔

ایرانی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگرہ اگر امریکا خارگ جزیرے میں موجود تیل کی تنصیبات پر کسی بھی ملک کے ذریعے حملہ کرتا ہے تو ایران جواب میں فوری طور پر اس ملک کی تیل و گیس کے اہم مراکز کو نشانہ بنائے گا، ایرانی فوج کی جانب سے دی گئی ہر وارننگ پر عملدرآمد یقینی ہوتا ہے اور جو بھی ملک امریکا کو اپنی سرزمین یا سہولتیں فراہم کرے گا، اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ ایران کے ممکنہ ردعمل میں اس کے توانائی کے اہم مراکز کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ میرے کے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈر زندہ نہیں ہیں اور حقیقت میں یہ واضح نہیں کہ ایران کی قیادت کون کر رہا ہے، کچھ ذرائع کے مطابق نیا ایرانی سپریم لیڈر انتقال کر چکا ہے، جبکہ بعض کے مطابق وہ صحت مند ہیں،ایران میں ایسے رہنما موجود ہیں جو مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم مکمل طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن توقع ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

عالمی بحری تنظیم (انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن) کے سربراہ ارسنيو ڈومنگیز نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی مکمل حفاظت ممکن نہیں، بحری جہازوں کی نگرانی آبنائے ہرمز کی مکمل سکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتی، اور اس تناظر میں فوجی معاونت بھی اس اہم تجارتی راستے کو کھلا رکھنے کا طویل مدتی یا پائیدار حل نہیں بن سکتی۔

رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تین فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث فضائی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے اور آج بھی پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں سے مزید 56 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، منسوخ ہونے والی پروازیں کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، ایران، عراق اور قطر کے لیے روانہ ہونے والی یا وہاں سے آنے والی تھیں، کراچی سے آج متعدد بین الاقوامی پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں، جن میں دبئی، ابوظبی، بحرین، دوحہ اور شارجہ کے لیے روانہ ہونے والی مجموعی طور پر 19 پروازیں شامل ہیں۔ اسی طرح لاہور سے نجف، دبئی، شارجہ اور جدہ کے لیے 17 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ اسلام آباد سے دبئی، بحرین، ریاض اور ابوظبی کے لیے 9 جبکہ پشاور سے ریاض، شارجہ، ابوظبی اور دبئی کی 7 پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔

علاوہ ازیں، ملتان ائرپورٹ سے دبئی جانے والی 4 پروازیں بھی مسافر برداری سے قبل منسوخ کر دی گئی ہیں، فضائی راستوں میں ممکنہ خطرات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث متعدد ملکی اور غیر ملکی ایئر لائنز نے اپنے فلائٹ آپریشنز کو عارضی طور پر محدود کر دیا ہے، گزشتہ اٹھارہ روز کے دوران پاکستان کے ہوائی اڈوں سے پروازوں کی آمد و رفت شدید متاثر رہی، اور اس عرصے میں مجموعی طور پر 2,000 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں اور ان کے سفری منصوبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

لبنان کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ 28 فروری سے اب تک جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 850 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے