اسلام آباد: وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے حالیہ ہلاکتوں کے الزام کے لیے ایک پرانی تصویر استعمال کی ہے، جس کا مقصد عوامی تاثر کو گمراہ کرنا ہے، یہ تصویر مئی 2023 کی ہے اور اس وقت افغان طالبان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کی گئی تھی۔
وزارت اطلاعات کے مطابق یہ اقدام جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے اور موجودہ واقعے کے ثبوت کے طور پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے، پرانے تصویری مواد کو دوبارہ استعمال کر کے موجودہ الزامات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو حقیقت سے بالکل مختلف ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ یہ طریقہ کار عوام میں الجھاؤ پیدا کرنے اور سچائی کو چھپانے کی کوشش ہے۔ ایسے دعوے جھوٹ اور فریب پر مبنی ہیں اور انہیں قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔ وزارت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی معلومات پر بھروسہ نہ کریں جو ثبوت یا اصل حقائق کے بغیر شیئر کی جا رہی ہوں۔
وزارت اطلاعات کے بیان میں زور دیا گیا کہ سچائی اور شفافیت کے اصولوں کے تحت ایسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا جاتا ہے اور شہریوں کو درست معلومات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، یہ کارروائی طالبان کی جانب سے جاری پروپیگنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد معاشرتی سطح پر غلط تاثر پیدا کرنا اور سچائی کو مسخ کرنا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مختلف سیکیورٹی اور فوجی کارروائیوں کے حوالے سے افواہیں گردش کر رہی ہیں اور وزارت نے واضح کیا ہے کہ صرف مستند اور حالیہ معلومات پر بھروسہ کیا جائے۔
