تل ابیب: اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور نیم فوجی دستے بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو ہلاک کر دیا ہے، وزیراعظم نیتن یاہو نے اس اقدام کو ایران کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور ایرانی عوام کو موجودہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا موقع دینے کے لیے ضروری قرار دیا۔
نیتن یاہو نے اپنے دفتر سے جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت اسرائیل کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، اس کارروائی کے نتیجے میں ایرانی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کا موقع مل سکتا ہے، یہ تبدیلیاں فوری یا آسانی سے نہیں آئیں گی بلکہ اگر اسرائیل مسلسل ایرانی حکومت کی باقی ماندہ تنصیبات پر حملے جاری رکھے تو عوام کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کا بھی ذکر کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ طویل بات چیت کے ذریعے فضائی اور بحری افواج کے درمیان مربوط کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں براہِ راست اور بالواسطہ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
نیتن یاہو نے عوام کو خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں کئی حیران کن پیش رفتیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، جن کا مقصد ایران کی حکومت اور فوجی قیادت پر دباؤ ڈالنا ہے،یہ اقدامات ایران کے ہارڈ لائن رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام کے لیے سیاسی تبدیلی کے راستے کھولنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
اس بیان کے بعد ایران کی طرف سے اس دعوے کی تصدیق یا تردید کے حوالے سے کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
