خلیجی کشیدگی کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی اور سفارتکاری پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
عالمی جریدے Bloomberg کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے عالمی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک تعلقات کے دعوے اس بحران میں کمزور دکھائی دیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشکل وقت میں بھارت کو توانائی ضروریات کے لیے بیرونی حمایت پر انحصار کرنا پڑا، جبکہ مختلف عالمی طاقتوں سے اجازت اور تعاون حاصل کرنے کی کوششوں نے اس کی سفارتی خودمختاری پر سوال کھڑے کر دیے۔
مزید کہا گیا کہ بھارتی عوام بھی اس صورتحال پر سوال اٹھا رہے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتیوں کی واپسی کے خدشات پیدا ہوئے، جس سے ترسیلات زر اور معیشت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق بڑی تعداد میں افراد کی واپسی سے فلاحی اخراجات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ بڑھتے اسٹریٹجک تعلقات کے باعث ایران کے ساتھ بھارت کے روابط متاثر ہوئے، جس کا اثر موجودہ بحران میں واضح طور پر سامنے آیا۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں مضبوط اثر و رسوخ کے دعوے کرنے والی بھارتی قیادت اس بحران میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی، جس سے اس کی سفارتی حکمت عملی اور پالیسیوں پر مزید بحث شروع ہو گئی ہے۔
