تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایرانی وزیرِ انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، حملے کے نتائج اور نقصانات کے حوالے سے صورتحال تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹسکے مطابق حملے میں اسماعیل خطیب کو ہدف بنایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے بعد نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور یہ ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی کہ ہدف کامیابی سے حاصل ہوا یا نہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حکام یا سرکاری ذرائع کی خاموشی کے باعث صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں کے دعوے کر رہے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ اور حساس ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے جارحانہ حملوں کی وجہ سے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھتی جارہی ہے، خاص طور پر جب ان کی باضابطہ تصدیق نہ ہو سکے۔
