ایران کے سیاستدان اور اعلیٰ قومی سیکیورٹی رہنما علی لاریجانی کی زندگی اور سیاسی سفر خطے کی حالیہ تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ وہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی اور قابل اعتماد ساتھی تھے اور ایرانی سیاسی منظرنامے میں کئی دہائیوں تک اثرورسوخ رکھتے رہے۔ لاریجانی نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر، صدارتی امیدوار اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کے عہدے سمیت مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور اپنی شہادت تک آخری عہدے پر فائز رہے۔
علی لاریجانی 1957 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور 1980 کی دہائی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی، جہاں وہ جوائنٹ سٹاف کے نائب سربراہ کے منصب تک پہنچے۔ 1990 کی دہائی میں انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور 1992 میں وزیرِ ثقافت و اسلامی رہنمائی کے عہدے پر تعینات ہوئے۔ 1994 میں انہیں سرکاری ایرانی نشریاتی ادارے کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا اور 1996 میں آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا۔
2005 میں لاریجانی نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اور چھٹے نمبر پر آئے، تاہم انتخابی نتائج کے بعد انہیں یورپی یونین کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کی قیادت سونپی گئی۔ 2008 میں وہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور اسپیکر بن گئے، یہ عہدہ انہوں نے 2020 تک برقرار رکھا۔ اسی سال آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں اپنا مشیر مقرر کیا۔
علی لاریجانی نے 2021 اور 2024 میں دوبارہ صدارتی انتخاب کی کوشش کی، مگر نگہبان کونسل نے ان کے کاغذات مسترد کر دیے۔ اگست 2025 میں انہیں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سربراہ اور کونسل میں سپریم لیڈر کا نمائندہ مقرر کیا گیا، اور اپنی شہادت تک وہ اسی عہدے پر فائز رہے۔
لاریجانی کا سیاسی اور عسکری کیریئر ایرانی سیاست میں ایک طویل اور مستحکم دور کی عکاسی کرتا ہے، جس میں انہوں نے داخلی و خارجی مسائل، قومی سلامتی اور خطے کے سیاسی توازن کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی شہادت نے ایران کی قیادت اور اس کے اسٹریٹجک امور میں ایک خالی جگہ پیدا کر دی ہے، جو ملکی اور عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
