ایران اور بھارت کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کے حوالے سے پیدا ہونے والا تناؤ بڑھ گیا ہے، جہاں تہران نے بھارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے مخصوص شرائط عائد کر دی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ اپنے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کے راستے سے گزارنا چاہتے ہیں تو تہران کی طرف سے رکھے گئے کچھ مطالبات تسلیم کرنے ہوں گے۔
ایرانی حکام نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ایرانی تیل سے بھرے تین بحری جہازوں کی واپسی کے بعد ہی نئی پاسداری کی اجازت دی جائے گی، تاہم نئی دہلی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی شرط کا اطلاق نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایران نے اپنے تین تیل بردار جہاز بھارت کے قبضے میں اُس وقت لیے تھے جب بھارت امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر بات چیت کر رہا تھا اور یہ عمل جنگ شروع ہونے سے قبل انجام پایا تھا۔ اس پس منظر میں ایران نے اب بھارتی جہازوں کی رہائی کے بدلے دواؤں اور طبی آلات کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 22 بھارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، اور اس صورتِ حال نے خطے میں بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے تحفظ اور تجارتی روایات پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایران کی یہ پالیسی عالمی سطح پر تجارتی رسد کے نظام پر اثر ڈال سکتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات کی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے۔
