تہران: ایران نے عالمی سطح کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے، جس کے ممکنہ اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ میں حکومتی نمائندہ سمعیہ رفیعی نے اس تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون ساز اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے تہران کے معروف مقام والیاسر اسکوائر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل اختیار حاصل ہے۔
سمعیہ رفیعی کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے مخالف ممالک کو فراہم کی جانے والی بعض سہولتیں محدود کر دی ہیں، جس کے باعث وہ نئی صورتحال کو قبول کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جاری جنگ کا انجام ایران کی فیصلہ کن فتح کی صورت میں نکلے گا، جس کے بعد مخالف ممالک کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے پر کسی بھی قسم کا ٹیکس، پابندی یا رکاوٹ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
