راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سپارکو نے پاکستان کی پہلی جدید جیواے آئی کلائمیٹ آبزرویٹری قائم کر دی ہے، جس کے ذریعے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی خطرات کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس جدید آبزرویٹری کے قیام کا مقصد فضائی آلودگی، گرین ہاؤس گیسز، جنگلات اور گلیشیئرز کی مسلسل مانیٹرنگ کرنا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا بروقت جائزہ لیا جا سکے، یہ نظام جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو ملک کے مختلف علاقوں سے ڈیٹا اکٹھا کر کے ایک جامع تصویر فراہم کرے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس آبزرویٹری کے ذریعے سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز اور سمندری سطح میں اضافے جیسے خطرات پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ خلائی اور زمینی ڈیٹا کو یکجا کر کے پالیسی سازوں کو بروقت اور مؤثر معلومات فراہم کی جائیں گی، جس سے بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں ہر سال مختلف قدرتی آفات کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ ایسے میں جدید آبزرویٹری کا قیام نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف پیشگی خبردار کرنے میں مدد دے گی بلکہ نقصانات کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سپیس فار کلائمیٹ” اقدام کے تحت یہ منصوبہ عالمی موسمیاتی اہداف کے مطابق پاکستان کی کاوشوں کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اس کے ذریعے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ماحولیاتی تعاون کو فروغ ملے گا۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے مستقبل میں موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تشکیل دینے میں مدد ملے گی اور پاکستان کو جدید سائنسی بنیادوں پر فیصلے کرنے کا موقع ملے گا۔
