اسلام آباد :مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان ہے۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس بار پھر بڑے اور تاریخی اضافے کا امکان ہے، جس کے بعد ان کی قیمت پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گی۔
میڈیا ذرائع کا کہناہے کہ پٹرول 55 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 75 روپے فی لٹر تک مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ اوگرا دو روز بعد اپنی ورکنگ پٹرولیم ڈویژن کو بھجوائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی حتمی منظوری وزیراعظم شہباز شریف دیں گے۔
ذرائع کا کہناہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک کے بجائے دو ہفتوں میں مرحلہ وار اضافہ کر سکتی ہے، جب کہ سبسڈی دے کر قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار بھی رکھی جا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ ایران جنگ کے بعد حکومت نے 7 مارچ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 321.17 جب کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 335 روپے 86 پیسے ہو گئی تھی۔
اوگرا نے گزشتہ ہفتے بھی پٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کی سمری بھجوائی تھی۔ تاہم حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی تھی جب کہ مٹی کا تیل 70 روپے 73 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا تھا جب کہ ہائی اوکٹین پر 200 روپے فی لیٹر لیوی کا اضافہ کر دیا تھا۔
وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں اور حکومت پٹرول پر 127 اور ڈیزل پر 200 روپے سے زائد فی لیٹر کی سبسڈی دے رہی ہے۔
