مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں عراق کے صوبہ انبار میں ہونے والے ایک مہلک فضائی حملے نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح دھڑے پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب تنظیم کے اعلیٰ کمانڈرز ایک اہم اجلاس میں مصروف تھے۔ حملے کے نتیجے میں کمانڈر سعد الباجی سمیت کم از کم 104 جنگجو ہلاک جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے، جنہیں قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب شمالی عراق کے شہر اربیل میں بھی سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی کا شکار رہی، جہاں کُرد فورسز کے ایک اڈے پر میزائل حملہ کیا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 6 اہلکار ہلاک جبکہ 22 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد علاقے میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔
تاحال اربیل میں ہونے والے میزائل حملے کی ذمہ داری کسی بھی فریق کی جانب سے قبول نہیں کی گئی، جبکہ حکام اس کے محرکات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات میں مصروف ہیں۔
دونوں واقعات نے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر اس جانب مبذول ہو گئی ہے۔
