اسلام آباد :عوام پاکستان پارٹی کے رہنماءسابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرول کی قیمت میں بڑے پیمانے پر کمی کرنے کےلیے آئیڈیا پیش کردیا۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تجویز دی ہے کہ ایندھن میں ایتھنول کی ملاوٹ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کو نمایاں طور پر کم کرنے کا ایک عملی طریقہ ہو سکتا ہے، حکومت اس تجویز پر عمل درآمد سے پہلے اس کا احتیاط سے جائزہ لے۔
اس تجویز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایتھنول ملاوٹ کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر ایتھنول کی پیداوار تجارتی طور پر قابل عمل ثابت ہوتی ہے تو شوگر ملز قدرتی طور پر اس شعبے میں توسیع کریں گی تاکہ اضافی محصولات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر اثرات حکومتی پالیسی پر منحصر ہوں گے، خاص طور پر اگر ایک مقررہ ملاوٹ کا تناسب اور قیمتوں کا تعین کرنے کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے۔
مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ کمپنیاں ایتھنول کو کم قیمتوں پر حاصل کرکے اور مارجن کو برقرار رکھ کر ممکنہ طور پر اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
وزارت پٹرولیم، پاکستان اسٹیٹ آئل اور شوگر انڈسٹری کے ساتھ مل کر اس آئیڈیا کا جائزہ لینے کے لیے ایک فوری ابتدائی مشاورت کی جا سکتی ہے، تاہم انفراسٹرکچر اور لاجسٹک رکاوٹوں کی وجہ سے اس پر فوری عمل درآمد کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔
عالمی رجحانات پر روشنی ڈالتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ جب خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائیں تو ایتھنول کی ملاوٹ معاشی طور پر قابل عمل ہو جاتی ہے، جب کہ 60 سے 80 ڈالر کی عام سطح پر یہ کم پرکشش ہے۔
برازیل اور امریکا جیسے ممالک پالیسی سپورٹ ایتھنول کے استعمال کو فروغ دیتے ہیں، پاکستان کو مختصر مدت میں ایسے ماڈلز کو نقل کرنے میں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
