ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے اثرات اب امریکی داخلی سیاست پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں ایک تازہ سروے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی ہے۔ بدلتے ہوئے حالات نے نہ صرف معاشی دباؤ میں اضافہ کیا ہے بلکہ عوامی رائے کو بھی حکومت کے خلاف موڑنا شروع کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی جانب سے کیے گئے حالیہ جائزے کے مطابق صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی بار ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 36 فیصد کی سطح تک آ گئی ہے، جو ان کے لیے ایک تشویشناک اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ان کی عوامی حمایت 40 سے 47 فیصد کے درمیان برقرار رہی، تاہم حالیہ جغرافیائی اور معاشی صورتحال نے اس گراف کو مزید نیچے دھکیل دیا ہے۔
سروے کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ امریکی عوام میں متنازع بن چکا ہے۔ اکثریت نے اس اقدام سے اختلاف کرتے ہوئے اسے غیر ضروری اور خطرناک قرار دیا، جہاں تقریباً 61 فیصد افراد نے حملوں کی مخالفت کی، جبکہ محض 35 فیصد نے حکومتی پالیسی کی حمایت کا اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں سب سے نمایاں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کا دباؤ اور جنگی ماحول کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب معیشت پر دباؤ بڑھتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست حکومتی مقبولیت پر پڑتے ہیں، اور موجودہ حالات میں یہی رجحان واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور معاشی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو ٹرمپ انتظامیہ کو نہ صرف خارجہ محاذ پر بلکہ اندرونی سیاسی سطح پر بھی سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو آنے والے دنوں میں امریکی سیاست کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
