اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹر مراد سعید کو نااہل قرار دے کر ڈی نوٹیفائی کر دیا، جس کے بعد خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی جنرل نشست خالی ہو گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مراد سعید کو انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے دس سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کی بنیاد پر ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت نااہلی کی کارروائی کی گئی۔ اس آرٹیکل کے تحت سزا یافتہ رکن پارلیمان اپنی نشست برقرار نہیں رکھ سکتا اور اسے فوراً خالی کرنا پڑتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ مراد سعید کے ڈی نوٹیفکیشن کے بعد سینیٹ میں نمائندگی کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے اور آئندہ انتخابی عمل کے ذریعے خالی نشست پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا، خالی ہونے والی نشست پر آئین اور قانون کے مطابق تمام مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ نمائندگی کی کمی نہ ہو۔
سینیٹر مراد سعید کی نااہلی کے بعد سیاسی حلقوں میں ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے اس فیصلے کو قانونی اور آئینی طور پر درست قرار دیا جبکہ کچھ حلقوں نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سینیٹ میں سیاسی توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق یہ فیصلہ مکمل شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیا گیا ہے، اور مستقبل میں کسی بھی آئینی یا قانونی رکاوٹ کے بغیر نشست پر نیا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی جنرل نشست ایک بار پھر متنازعہ سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے اور امیدواروں کی دلچسپی اور پارٹیوں کی حکمت عملی پر اثرات مرتب ہوں گے۔
