English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیلی سیاستدان کی یونانی جزائر خریدنے کی تجویز مسترد، ’متبادل آئرن ڈوم‘ منصوبہ ناکام

القمر

تل ابیب: اسرائیل کے ایک سیاستدان کی جانب سے یونان کے غیر آباد جزائر خریدنے کی تجویز نے علاقائی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جسے سیکیورٹی خدشات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیاسی شخصیت اوری اسٹینر نے تجویز دی کہ یونان کے تقریباً چالیس غیر آباد جزائر خرید کر انہیں اسرائیلی شہریوں کے لیے ممکنہ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جائے، یہ اقدام کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال، خاص طور پر میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر حفاظتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

اوری اسٹینر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کے تحفظ کے لیے متبادل منصوبہ بندی ضروری ہے۔ انہوں نے اس تجویز کو ایک “متبادل آئرن ڈوم” قرار دیا، جس کا مقصد جنگی حالات میں آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے۔

یہ تجویز جلد ہی مسترد کر دی گئی۔ جیوئش نیشنل فنڈ کی ذیلی کمپنی ہمنوتا کے بورڈ ارکان نے اسے غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ منصوبہ ادارے کے بنیادی دائرہ کار سے باہر ہے۔

بورڈ کے مطابق ادارہ اسرائیل یا فلسطینی علاقوں سے باہر زمین خریدنے کا مجاز نہیں، اس لیے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز قابل عمل نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس منصوبے کو عملی، قانونی اور سفارتی رکاوٹوں کے باعث ناقابلِ عمل قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث غیر معمولی تجاویز سامنے آ رہی ہیں، یونان کے جزائر خریدنے کی یہ تجویز اپنی نوعیت کے باعث خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے