ڈیرہ اسماعیل خان: سربراہ جمعیت علما اسلام مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس ثالثی کے سوا کوئی راستہ نہیں اور ملک کو بین الاقوامی اور قومی سطح پر واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی اور ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور ٹانک سمیت کئی علاقوں میں بدامنی پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مشرقی اور مغربی سرحدوں کی کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کی اور تجویز دی کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ قومی مشاورت کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسلامی دنیا کے مختلف ممالک میں جاری جنگیں، عراق، لیبیا اور ایران کی موجودہ صورتحال، پاکستان کو اسلامی بلاک کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کر رہی ہیں، پاکستان کی کوئی مؤثر فارن پالیسی موجود نہیں اور ثالثی کے اقدامات ہی ملک کے لیے قابلِ عمل راستہ ہیں۔
انہوں نے بھارت کی کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور ڈیموگرافک تبدیلی کی کوششوں کے باوجود بھارت اپنی پالیسیوں میں ناکام رہا ہے، خطے میں کشیدگی کی بڑی وجہ بھارتی پالیسیاں ہیں اور سارک اور آسیان غیر مؤثر ہو چکے ہیں، لہٰذا چین اور دیگر ایشیائی اتحاد کی طرف دیکھنا وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں صرف ایک ادارے کی پالیسی کے مطابق اقدامات ہو رہے ہیں، جس سے حقیقی قومی پالیسی کی کمی خطے میں پاکستان کے موقف کو کمزور کر رہی ہے اور ملکی مفاد میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
