پیرس: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اس امر کا منتظر ہے کہ تہران کی جانب سے بات چیت میں کس سطح اور کن نمائندوں کو شامل کیا جاتا ہے، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ امریکا زمینی افواج تعینات کیے بغیر بھی اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فرانس میں منعقدہ جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ اگرچہ خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اہداف موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود عالمی سطح پر اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ایک فوری اور پیچیدہ چیلنج بن سکتا ہے، اسی تناظر میں خطے میں محدود تعداد میں فوجی دستوں کی تعیناتی جاری ہے تاکہ امریکی صدر کو بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق فیصلے کرنے میں زیادہ لچک حاصل ہو سکے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز کے لیے کسی قسم کا ٹول یا کنٹرول سسٹم متعارف کرا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا امکان ہے، امریکا جنگ کے بعد بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر حکمت عملی تشکیل دینے کا خواہاں ہے، کیونکہ اس راستے کی بندش عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایک خطرناک پیش رفت ہوگی، اس لیے دنیا کے پاس ایک واضح اور متفقہ منصوبہ ہونا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
اس موقع پر انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ یوکرین کے لیے مختص کیے گئے بعض ہتھیار ایران کے خلاف استعمال نہیں کیے جا رہے، تاہم مستقبل میں حالات کے مطابق اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
مارکو روبیو نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ امریکا اس وقت اس بات کا منتظر ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں کس نوعیت کی نمائندگی سامنے آتی ہے اور یہ بھی کہ فریقین کن نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہیں، واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور ایرانی حکومت کی جانب سے بعض معاملات پر بات چیت کے اشارے بھی ملے ہیں، تاہم امریکا مزید وضاحت کا خواہاں ہے کہ مذاکرات کس سطح پر، کن موضوعات پر اور کن ٹائم لائن کے تحت ہوں گے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکا کو ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں بھیجی گئی 15 نکاتی تجویز کا باضابطہ جواب تاحال موصول نہیں ہوا، اور امریکی حکام اس حوالے سے مزید پیش رفت کے منتظر ہیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔
