تہران: ایرانی فوج نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف کارروائیوں کے دوران 500 سے زائد امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ حملے دو الگ مقامات پر کیے گئے جہاں امریکی اہلکاروں کی نمایاں تعداد موجود تھی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی فوج کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں ایک مقام پر تقریباً 400 امریکی فوجی تعینات تھے، جبکہ دوسرے مقام پر 100 سے زائد اہلکار موجود تھے، جنہیں بیک وقت گائیڈڈ میزائلز اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراہیم ذوالفقاری نے مزید بتایا کہ ان حملوں کے بعد امدادی سرگرمیاں طویل عرصے تک جاری رہیں اور ایمبولینسز کئی گھنٹوں تک لاشوں اور زخمیوں کو منتقل کرتی رہیں۔
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں نہایت منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں، جن کا مقصد خطے میں موجود امریکی عسکری موجودگی کو نشانہ بنانا تھا۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایرانی فوج کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی فوجی موجودگی مسلسل خطرات سے دوچار رہے گی اور اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ خطہ امریکی افواج کے لیے غیر محفوظ ثابت ہو سکتا ہے۔
